سانحہ : ولی خان کی زبان
۔
’’ باچاخان اور میں جیل میں تھے۔ جولائی 1948 کو سرحد(پختونخوا) حکومت نے خدائی خدمتگار تنظیم پر پابندی لگادی، پختون رسالہ بند کر دیا اور جو گرفتاریاں ہورہی تھیں اُن میں شدت آئی۔ ہمیں جیل میں علم ہوا کہ سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاریوں کے خلاف خدائی خدمتگاروں نے 12 اگست کو بابڑہ چارسدہ میں احتجاج کا پروگرام بنایا ہے ۔13اگست کو معلوم ہوا کہ اس اجتماع پر گولیاں چلی ہیں اور سیکڑوں مرد اور خواتین شہید ہوئے ہیں ۔حکومت نے اسپتال انتظامیہ کو پابند کیا تھا کہ زخمیوں کا علاج نہیں کیا جائیگا اور انہیں پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔ اس طرح زخمی ، علاج کی بجائے پولیس سے چھپتے پر رہے تھے۔ جو رضاکار گرفتار ہوتے وہ ہمارے پاس جیل آرہے تھے، جس سے واقعات سے آگاہی ہورہی تھی۔جب اس احتجاج کےمنتظم اور خدائی خدمتگار تنظیم کے سالار اعظم امین جان خان جیل لائے گئے تو ہمیں تمام تفصیلات کا علم ہوا‘‘ ……
یہ اقتباس مرحوم و مغفور خان عبدالولی خان کی کتاب’’ باچا خان اور خدائی خدمتگاری‘‘سے لیا گیا ہے۔جلد دوم کے متعدد صفحات پر 12اگست 1948 کو رونما ہونے والے اس خون ریز داستان کی تفصیلات ملتی ہیں ۔ جو صفحہ 125سے شروع ہوتی ہیں۔یہ کتاب مجھ ناچیز کو محترم خان عبدالولی خان نے اپنائیت سے مزین اپنے آٹوگراف کے ساتھ ولی باغ سے کراچی بھیجی تھی۔میں نے اس واقعہ سے متعلق معلومات کیلئے اس کتاب کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ بابڑہ سے متعلق اکثر لوگ غلط بیانیاں کرجاتے ہیں ، یہاں تک کہ اے این پی کے بعض اصحاب بھی فاش غلطیوں پر مشتمل معلومات عام کردیتے ہیں ،جس سے تاریخ کا قرض ادا نہیں ہو پاتا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مظاہرین دفعہ 144 کی خلاف ورزی کررہے تھے، اس لئے گولیاں چلیں۔ولی خان بابا کا کہنا ہے کہ مجھے ہمارے ضلع کے ڈپٹی کمیشنر طورو کے ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ نہ تو میں نے دفعہ 144لگائی تھی اور نہ ہی کسی نے مجھ سے پوچھا تھا۔باچاخان بابا قانون کا احترام کرتے تھے، وہ کھبی دفعہ144کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے، پھر ان کے پیروکار ایسا کیونکر کرسکتے تھے۔ولی خان رقم طراز ہیں’’سرکار نے احتجاج کا سنتے ہیں بغیر کسی انتباہ کے سب سے پہلے احتجاج کے منتظم رضاروں کوپکڑ کر دریا میں پھینک دیا، اور کہا کہ جو احتجاج میں شرکت کریگا ، انجام ایسا ہی ہوگا کہ لاش بھی نہیں ملے گی۔اس کے باوجود ہزاروں مظاہرین چارسدہ، پڑانگ اور بابڑہ تک پہنچ گئے۔جلوس غازی گل بابا مسجد کے راستے روانہ تھا کہ مقبرے کے قریب جلسہ کرینگے۔مقبرے کے درمیان مسجد پر ملیشا نے قبضہ کرلیا تھا، جیسے ہی یہ جلوس مسجد کے قریب پہنچا،کسی انتباہ کے بغیر ان پر گولیوں کی بارش کردی گئی۔جلو س کی پہلی صف میں ایک نوجوان سرخ قومی پرچم تھامے رواں تھا ،اُسے گولی لگی،دم توڑتے ہوئے اُس نے یہ پرچم دوسرے نوجوان کو دیدیا، اُسے گولی لگی تو ایک دوسرے نوجوان نے لپک کر اُس سے پرچم لے لیا اور آگے بڑھا۔جلوس میں شریک بزرگوں نےجب صورت حال کا اندازہ لگایا تو فوری ہدایتے کی کہ ، سب لیٹ جائیں ۔ مارٹر گولے تک مسجد کی چھت سے ان نہتے مظاہرین پر پھینکے جارہے تھے،جلوس میں شریک خواتین بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہونے لگیں۔ایک لرزہ خیز قیامت بپا تھی، گھروں میں موجود خواتین قرآن مجید سروں پر رکھ کر باہر آئیں، آہ وزاریاں کرنے لگیں۔مسلمان کہلانے والے شقی القلب پولیس افسروں نے کہا ہمیں حکم ہے کہ ان کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے۔اُن خواتین پر بھی گولیاں چلائی گئیں، جس سے قرآن مجید بھی شہید ہوگئے۔جیل سے رہائی پر میں (ولی خان )نے خود گولیوں سے چھلنی وہ قرآن مجید دیکھے ہیں۔اکثر گھروں میں اب بھی وہ شہید قرآن مجید موجود ہیں۔اس قتل عام کے بعد خدائی خدمتگاروں کے گھروں کو لوٹا گیا۔ایک نو بیہاتا دلہن جس کا خاوند جلوس میں شامل تھا۔پولیس والے اُس کے گھر پر پہنچے،اور سب کچھ لوٹنے کے بعد دلہن سے شادی کا جوڑا بھی لینے لگے ،اُس نے کہا کپڑے تو تم نے لے لئے ہیں اب تو صر ف یہی ایک جوڑا میرے تن پر بچا ہے۔اسلامی مملکت کے محافظوں نےکہا یہ بھی ہمارے سامنے اُتاردو…. پڑوسیوں نے اپنے کپڑے دئے اور یہ بے شرم قیوم خانی نمک خور وہ جوڑا بھی ساتھ لے گئے‘‘
۔انسا نیت سوز، لرزہ خیز ، بربریت پر مشتمل آگے کے واقعات بیان کرنے کی میں( اجمل کشر) خود میں ہمت نہیں پاتا۔ولی خان صاحب کا کہنا ہے کہ اس خونی واقعہ میںتقریبا 600مرد ، خواتین، بزرگ اور بچے شہید ہوئے،چونکہ ساتھی مختلف علاقوں اور دوردراز سے آئے تھے اس لئے شہدا کی تعداد کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ، چہ جائیکہ زخمیوں کا معلوم ہوسکے‘‘…..ولی خان کی کتاب سے آپ نے اقتباس ملاخط فرمایا۔یہ واضع رہے کہ جلوس کو پُرامن بنانے کے لئے لوگوں کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ خالی ہاتھ آئیں۔ یہاں تک کہ ہاتھوں میں ڈنڈے بھی ساتھ نہ لائیں۔ اس جلوس میں بوڑھے، بچے اور جوان شامل تھے،اس کے بائوجود عینی شاہدین کے مطابق پولیس 45منٹ تک نہتے لوگوں پر گولیاں برساتی رہیں۔ان اہلکاروں کا اسلام تو کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کا واسطہ نہ تھا۔حالانکہ انگریز کے دور میں جب فائر کا حکم دیا گیا تو گڑھوال رائفل کے سپاہیوں نے نہتے سرخ پوشوں پر گولی چلانے سےانکار کردیا تھا ۔یہاں سفاکی کاعالم یہ تھا کہ ستمبر 1948ء کو عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں بیان دیا ’’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کیا تھا، جب لوگ منتشر نہ ہوئے، تو ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے، کیوں کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا، ورنہ ایک بندہ بھی زندہ نہ بچتا۔‘….
اس کشمیری عبدالقیوم خان کی پست ذہینت ،اخلاق سوز کردار اور موقع پرستی کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے لگالیجئے۔قیوم خان کانگریس میں شامل تھے،اور باچاخان کے معتقد تھے۔اُنہوں نےایک کتاب ’’گولڈ اینڈ گنز ان دی فرنٹیئر ریجن‘‘ لکھی، جس میں باچا خان کی تعریف کے پُل باندھ دئیے۔لیکن جیسے ہی ہندوستان کے دو مملکتوں میں تقسیم کا اندازہ ہوا، تو 1940میں مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔حیا باختہ یہ شخص قیام پاکستان کے بعد جیسے ہی صوبہ سرحد ( پختونخوا) کا وزیر اعلیٰ بنا تو عہدہ سنبھالتے ہی خود اپنی ہی محولہ کتاب پر پابندی لگا دی ۔ غالباً یہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جس پر خود اس کے اپنے ہی مصنف نے پابندی لگا ئی ۔ اب پختون ایسے کمزور نہ تھے کہ ایسے بزدل شخص کی گولی کا جواب گولی سے دینا نہیں جانتے تھے۔مگر وہ باچاخان کے پیروکار تھے۔سیکڑوں میں سے یہاں صرف ایک حوالہ دینا چاہتے ہیں۔ 1921میں باچا خان اتمان زئی اسکول میں فٹ بال گرائونڈ بنارہے تھے کہ فرنگی حکومت نے تعلیم عام کرنے کر ’’ جرم‘‘ میں گرفتار کرلیا ۔ گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے۔ خدائی خدمت گاروں نے جیل کا محاصرہ کرلیا۔ نعرۃ تکبیر نے باچاخان کی سماعت کا بوسہ لیا،تو بابا سمجھ گئے، حواس باختہ گورے افسر سے کہا، دومنٹ کے لیے خدائی خدمتگاروں سے مخاطب ہونے دیجیے،یہ گھر چلے جائیں گے۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے پکارا! میرے پختونو! تمہارے پاس اس جنگ میں ناقابل شکست ہتھیار دو ہی ہیں۔ صبر و استقامت ! عدم تشد د کے نظرئے کو ہتھیار بنالو،اور میری عرض ہے کہ گھروں کو لوٹ جاؤ۔ خدمت کرو، تعلیم جاری رکھو، جرگے لے کر جاؤ اور پختونوں کی سماجت کرو کہ اپنی دشمنیاں ختم کردیں……. پختون لوٹ گئے۔ اب ایسے صلح جو کے پیروکاروں کے ساتھ اپنے ملک میں کیا ہوا۔ مویشی ضبط ، گھر نیلام ہوئے، بھوک و افلاس مسلط ہوا، دوسرے گاؤں سے آنے والی اشیائے خورد و نوش ضبط ہوئیں، امداد پہنچانے والوں کو پھانسیاں دی گئیں، روپوشی کی زندگی نصیب بنی، فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی پیاسے مرے، ایک ایک اجتماع میں چالیس چالیس رضاکار مارے گئے، بمباریاں ہوتی رہیں، اسکول اور دفاتر خاکستر ہوئے، زخمی نوجوانوں گندے پانی کے ٹھنڈے تالابوں میں پھینکے گئے، ایک گاؤں مکمل اور ایک آدھا نذر آتش ہوا۔اب ایسی شخصیت جس نے مصائب و آلم کے پہاڑ عبور کئے ہوں،رہائی کے بعد 20مارچ 1954کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’6 سال پہلے میں نے اسی جگہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ اس کی یکجہتی اور تحفظ ہمارا فرض ہے۔ میں آج پھر وہی الفاظ دہراتا ہوں‘‘…..لیکن ایسے لوگوں تک کو معاف کیا گیا جنہوں نے قائد اعظم پرکفر کے فتوے صادر کئے تھے،لیکن وائے افسوس،،، باچاخان زندگی کی آخری سانسوں تک زیر عتاب رہے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جب بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے سانحہ جلیانوالہ باغ کو برطانوی تاریخ تاریخ کا شرمنا ک واقعہ قرار دیا تھا۔
جلیانوالہ باغ کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 379 بتائی جاتی ہے جبکہ بابڑہ کے میں 600 سے زیادہ نہتے پختونوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔اگر کوئی اپنے جرم کا اعتراف نہ کرے تو اس سےایسے ظالموں کی بے حسی تو سامنے آجاتی ہے، لیکن اُس کا مکروہ چہرہ تاریخ عالم کے اوراق سے بطور انسان غائب ہوجاتا ہے۔ تاریخ ایسے فرعونوں پر ہر ساعت لعنت بھیجتی ہے۔آج ملعون قیوم خان کا نام و نشان بھی نہیں ہےاور باچاخان کا کاررواں یوں ہی رواں دواں ہے
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے، ہوا چل رہی ھے۔
۔
’’ باچاخان اور میں جیل میں تھے۔ جولائی 1948 کو سرحد(پختونخوا) حکومت نے خدائی خدمتگار تنظیم پر پابندی لگادی، پختون رسالہ بند کر دیا اور جو گرفتاریاں ہورہی تھیں اُن میں شدت آئی۔ ہمیں جیل میں علم ہوا کہ سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاریوں کے خلاف خدائی خدمتگاروں نے 12 اگست کو بابڑہ چارسدہ میں احتجاج کا پروگرام بنایا ہے ۔13اگست کو معلوم ہوا کہ اس اجتماع پر گولیاں چلی ہیں اور سیکڑوں مرد اور خواتین شہید ہوئے ہیں ۔حکومت نے اسپتال انتظامیہ کو پابند کیا تھا کہ زخمیوں کا علاج نہیں کیا جائیگا اور انہیں پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔ اس طرح زخمی ، علاج کی بجائے پولیس سے چھپتے پر رہے تھے۔ جو رضاکار گرفتار ہوتے وہ ہمارے پاس جیل آرہے تھے، جس سے واقعات سے آگاہی ہورہی تھی۔جب اس احتجاج کےمنتظم اور خدائی خدمتگار تنظیم کے سالار اعظم امین جان خان جیل لائے گئے تو ہمیں تمام تفصیلات کا علم ہوا‘‘ ……
یہ اقتباس مرحوم و مغفور خان عبدالولی خان کی کتاب’’ باچا خان اور خدائی خدمتگاری‘‘سے لیا گیا ہے۔جلد دوم کے متعدد صفحات پر 12اگست 1948 کو رونما ہونے والے اس خون ریز داستان کی تفصیلات ملتی ہیں ۔ جو صفحہ 125سے شروع ہوتی ہیں۔یہ کتاب مجھ ناچیز کو محترم خان عبدالولی خان نے اپنائیت سے مزین اپنے آٹوگراف کے ساتھ ولی باغ سے کراچی بھیجی تھی۔میں نے اس واقعہ سے متعلق معلومات کیلئے اس کتاب کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ بابڑہ سے متعلق اکثر لوگ غلط بیانیاں کرجاتے ہیں ، یہاں تک کہ اے این پی کے بعض اصحاب بھی فاش غلطیوں پر مشتمل معلومات عام کردیتے ہیں ،جس سے تاریخ کا قرض ادا نہیں ہو پاتا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مظاہرین دفعہ 144 کی خلاف ورزی کررہے تھے، اس لئے گولیاں چلیں۔ولی خان بابا کا کہنا ہے کہ مجھے ہمارے ضلع کے ڈپٹی کمیشنر طورو کے ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ نہ تو میں نے دفعہ 144لگائی تھی اور نہ ہی کسی نے مجھ سے پوچھا تھا۔باچاخان بابا قانون کا احترام کرتے تھے، وہ کھبی دفعہ144کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے، پھر ان کے پیروکار ایسا کیونکر کرسکتے تھے۔ولی خان رقم طراز ہیں’’سرکار نے احتجاج کا سنتے ہیں بغیر کسی انتباہ کے سب سے پہلے احتجاج کے منتظم رضاروں کوپکڑ کر دریا میں پھینک دیا، اور کہا کہ جو احتجاج میں شرکت کریگا ، انجام ایسا ہی ہوگا کہ لاش بھی نہیں ملے گی۔اس کے باوجود ہزاروں مظاہرین چارسدہ، پڑانگ اور بابڑہ تک پہنچ گئے۔جلوس غازی گل بابا مسجد کے راستے روانہ تھا کہ مقبرے کے قریب جلسہ کرینگے۔مقبرے کے درمیان مسجد پر ملیشا نے قبضہ کرلیا تھا، جیسے ہی یہ جلوس مسجد کے قریب پہنچا،کسی انتباہ کے بغیر ان پر گولیوں کی بارش کردی گئی۔جلو س کی پہلی صف میں ایک نوجوان سرخ قومی پرچم تھامے رواں تھا ،اُسے گولی لگی،دم توڑتے ہوئے اُس نے یہ پرچم دوسرے نوجوان کو دیدیا، اُسے گولی لگی تو ایک دوسرے نوجوان نے لپک کر اُس سے پرچم لے لیا اور آگے بڑھا۔جلوس میں شریک بزرگوں نےجب صورت حال کا اندازہ لگایا تو فوری ہدایتے کی کہ ، سب لیٹ جائیں ۔ مارٹر گولے تک مسجد کی چھت سے ان نہتے مظاہرین پر پھینکے جارہے تھے،جلوس میں شریک خواتین بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہونے لگیں۔ایک لرزہ خیز قیامت بپا تھی، گھروں میں موجود خواتین قرآن مجید سروں پر رکھ کر باہر آئیں، آہ وزاریاں کرنے لگیں۔مسلمان کہلانے والے شقی القلب پولیس افسروں نے کہا ہمیں حکم ہے کہ ان کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے۔اُن خواتین پر بھی گولیاں چلائی گئیں، جس سے قرآن مجید بھی شہید ہوگئے۔جیل سے رہائی پر میں (ولی خان )نے خود گولیوں سے چھلنی وہ قرآن مجید دیکھے ہیں۔اکثر گھروں میں اب بھی وہ شہید قرآن مجید موجود ہیں۔اس قتل عام کے بعد خدائی خدمتگاروں کے گھروں کو لوٹا گیا۔ایک نو بیہاتا دلہن جس کا خاوند جلوس میں شامل تھا۔پولیس والے اُس کے گھر پر پہنچے،اور سب کچھ لوٹنے کے بعد دلہن سے شادی کا جوڑا بھی لینے لگے ،اُس نے کہا کپڑے تو تم نے لے لئے ہیں اب تو صر ف یہی ایک جوڑا میرے تن پر بچا ہے۔اسلامی مملکت کے محافظوں نےکہا یہ بھی ہمارے سامنے اُتاردو…. پڑوسیوں نے اپنے کپڑے دئے اور یہ بے شرم قیوم خانی نمک خور وہ جوڑا بھی ساتھ لے گئے‘‘
۔انسا نیت سوز، لرزہ خیز ، بربریت پر مشتمل آگے کے واقعات بیان کرنے کی میں( اجمل کشر) خود میں ہمت نہیں پاتا۔ولی خان صاحب کا کہنا ہے کہ اس خونی واقعہ میںتقریبا 600مرد ، خواتین، بزرگ اور بچے شہید ہوئے،چونکہ ساتھی مختلف علاقوں اور دوردراز سے آئے تھے اس لئے شہدا کی تعداد کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ، چہ جائیکہ زخمیوں کا معلوم ہوسکے‘‘…..ولی خان کی کتاب سے آپ نے اقتباس ملاخط فرمایا۔یہ واضع رہے کہ جلوس کو پُرامن بنانے کے لئے لوگوں کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ خالی ہاتھ آئیں۔ یہاں تک کہ ہاتھوں میں ڈنڈے بھی ساتھ نہ لائیں۔ اس جلوس میں بوڑھے، بچے اور جوان شامل تھے،اس کے بائوجود عینی شاہدین کے مطابق پولیس 45منٹ تک نہتے لوگوں پر گولیاں برساتی رہیں۔ان اہلکاروں کا اسلام تو کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کا واسطہ نہ تھا۔حالانکہ انگریز کے دور میں جب فائر کا حکم دیا گیا تو گڑھوال رائفل کے سپاہیوں نے نہتے سرخ پوشوں پر گولی چلانے سےانکار کردیا تھا ۔یہاں سفاکی کاعالم یہ تھا کہ ستمبر 1948ء کو عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں بیان دیا ’’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کیا تھا، جب لوگ منتشر نہ ہوئے، تو ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے، کیوں کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا، ورنہ ایک بندہ بھی زندہ نہ بچتا۔‘….
اس کشمیری عبدالقیوم خان کی پست ذہینت ،اخلاق سوز کردار اور موقع پرستی کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے لگالیجئے۔قیوم خان کانگریس میں شامل تھے،اور باچاخان کے معتقد تھے۔اُنہوں نےایک کتاب ’’گولڈ اینڈ گنز ان دی فرنٹیئر ریجن‘‘ لکھی، جس میں باچا خان کی تعریف کے پُل باندھ دئیے۔لیکن جیسے ہی ہندوستان کے دو مملکتوں میں تقسیم کا اندازہ ہوا، تو 1940میں مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔حیا باختہ یہ شخص قیام پاکستان کے بعد جیسے ہی صوبہ سرحد ( پختونخوا) کا وزیر اعلیٰ بنا تو عہدہ سنبھالتے ہی خود اپنی ہی محولہ کتاب پر پابندی لگا دی ۔ غالباً یہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جس پر خود اس کے اپنے ہی مصنف نے پابندی لگا ئی ۔ اب پختون ایسے کمزور نہ تھے کہ ایسے بزدل شخص کی گولی کا جواب گولی سے دینا نہیں جانتے تھے۔مگر وہ باچاخان کے پیروکار تھے۔سیکڑوں میں سے یہاں صرف ایک حوالہ دینا چاہتے ہیں۔ 1921میں باچا خان اتمان زئی اسکول میں فٹ بال گرائونڈ بنارہے تھے کہ فرنگی حکومت نے تعلیم عام کرنے کر ’’ جرم‘‘ میں گرفتار کرلیا ۔ گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے۔ خدائی خدمت گاروں نے جیل کا محاصرہ کرلیا۔ نعرۃ تکبیر نے باچاخان کی سماعت کا بوسہ لیا،تو بابا سمجھ گئے، حواس باختہ گورے افسر سے کہا، دومنٹ کے لیے خدائی خدمتگاروں سے مخاطب ہونے دیجیے،یہ گھر چلے جائیں گے۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے پکارا! میرے پختونو! تمہارے پاس اس جنگ میں ناقابل شکست ہتھیار دو ہی ہیں۔ صبر و استقامت ! عدم تشد د کے نظرئے کو ہتھیار بنالو،اور میری عرض ہے کہ گھروں کو لوٹ جاؤ۔ خدمت کرو، تعلیم جاری رکھو، جرگے لے کر جاؤ اور پختونوں کی سماجت کرو کہ اپنی دشمنیاں ختم کردیں……. پختون لوٹ گئے۔ اب ایسے صلح جو کے پیروکاروں کے ساتھ اپنے ملک میں کیا ہوا۔ مویشی ضبط ، گھر نیلام ہوئے، بھوک و افلاس مسلط ہوا، دوسرے گاؤں سے آنے والی اشیائے خورد و نوش ضبط ہوئیں، امداد پہنچانے والوں کو پھانسیاں دی گئیں، روپوشی کی زندگی نصیب بنی، فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی پیاسے مرے، ایک ایک اجتماع میں چالیس چالیس رضاکار مارے گئے، بمباریاں ہوتی رہیں، اسکول اور دفاتر خاکستر ہوئے، زخمی نوجوانوں گندے پانی کے ٹھنڈے تالابوں میں پھینکے گئے، ایک گاؤں مکمل اور ایک آدھا نذر آتش ہوا۔اب ایسی شخصیت جس نے مصائب و آلم کے پہاڑ عبور کئے ہوں،رہائی کے بعد 20مارچ 1954کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’6 سال پہلے میں نے اسی جگہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ اس کی یکجہتی اور تحفظ ہمارا فرض ہے۔ میں آج پھر وہی الفاظ دہراتا ہوں‘‘…..لیکن ایسے لوگوں تک کو معاف کیا گیا جنہوں نے قائد اعظم پرکفر کے فتوے صادر کئے تھے،لیکن وائے افسوس،،، باچاخان زندگی کی آخری سانسوں تک زیر عتاب رہے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جب بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے سانحہ جلیانوالہ باغ کو برطانوی تاریخ تاریخ کا شرمنا ک واقعہ قرار دیا تھا۔
جلیانوالہ باغ کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 379 بتائی جاتی ہے جبکہ بابڑہ کے میں 600 سے زیادہ نہتے پختونوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔اگر کوئی اپنے جرم کا اعتراف نہ کرے تو اس سےایسے ظالموں کی بے حسی تو سامنے آجاتی ہے، لیکن اُس کا مکروہ چہرہ تاریخ عالم کے اوراق سے بطور انسان غائب ہوجاتا ہے۔ تاریخ ایسے فرعونوں پر ہر ساعت لعنت بھیجتی ہے۔آج ملعون قیوم خان کا نام و نشان بھی نہیں ہےاور باچاخان کا کاررواں یوں ہی رواں دواں ہے
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے، ہوا چل رہی ھے۔
No comments:
Post a Comment