پہلے شئیر کرچکا ہوں لیکن آج کے دن کی اہمیت کے حوالے سے ان لوگوں تک پہچانا بھی ضروری ہے جنہوں نے نہیں پڑھا.برائے مہربانی ضرور پڑھیں اور شئیر کریں. تاکہ احساس پیدا ہو کہ یہ ملک کیسے حاصل کیا گیا.
عشاء کے بعد جب سارا گاؤں خاموشیوں اور گھپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ، ویرانیوں اور تنہائیوں کے سائے سارے گاؤں کواپنی آغوش میں لے لیتیں تو دور ٹھہرے ایک گھنے درخت کے پاس سے ایک درد بھری سی آواز سی سُنائی دیتی جو سارے ماحول کو مزید افسردہ کردیتی ۔ یہ آواز کسی کی یاد کو الفاظ میں ڈھال کر تب تک سُنائی دیتی جب تک یہ رندھ سی جاتی اور آہستہ آہستہ خاموش ہوجاتی ۔ صبح جب وہاں جا کہ دیکھتا تو کوئی موجود نہ ہوتا صرف ایک چٹائی، چند برتن اور چند بوسیدہ سے کپڑے۔ شاید وہ چٹایوں کا کام کرتے تھے تب ہی تپے وغیرہ بھی پاس پڑے ملے۔اپنے نانا جی سے انکے بارے میں پُوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ قیامِ پاکستان کے وقت انکے والد صاحب یعنی ہمارے پرنانا جی کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تب سے یہیں پہ ہیں اور اس وقت سے یہی رات کو دکھ بھری آواز ہی سُنتے آئے ہیں اس کے علاوہ یہ کسی سے کوئی واسطہ کوئی غرض نہیں رکھتے۔
صبح سویرے نکل جاتے ہیں اور خدامعلوم کس وقت لوٹ کے آتے ہیں۔پچھلے 50 ،55 سے ایسے ہی ہیں انکی عمر بھی لگ بھگ 80 کے قریب ہوگی لیکن ان میں مشقت کی جان ابھی بھی باقی تھی۔ نانا ابوکے تعارف کرانے کے بعد میرے دل میں ان سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا اور میں ان سے ملنے پہنچ جاتا لیکن انتظار کرتے کرتے واپس آجاتا معلوم نہیں وہ کس وقت آتےتھے۔رات کو انکی آواز سُن کے پھر بےچین سا ہوجاتا لیکن اسوقت ان کو تکلیف دینا مناسب بھی نہیں تھا لگتا۔ ایک دن باہر نکلا تو دیکھا وہ آج اپنی جھونپڑی کے پاس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے مجھے موقع مناسب لگا اور انکے سر جا پہنچا۔ وہاں جاکہ سلام کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے پھرذرا اونچی آواز میں سلام کیا توانہوں نے مڑکے دیکھا اور کہا آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے چٹائیاں نہیں بنائیں۔
میں نے کہا میں چٹائیاں لینے نہیں آپ سے ملنے آیا ہوںوہ حیران ساہوئے اور پُوچھا کون ہو بیٹا اور مجھ سے ملنے ایک فقیر سے بھلا کوئی ملنے کیوں آئے گا۔ میں نے جواب دیا بابا جی رات کو آپ کی آواز کا درد مجھے سکون نہیں لینے دے رہا۔ آپ کون ہیں آپکا گھر بار کہاں ہے؟ آپکے بیوی بچے کہاں ہیں؟ اس پہ تھوڑا سا غصہ ہوےکہا جا بیٹا تنگ نہ کرو۔ میں اُس دن چُپ چاپ واپس لُوٹ آیا لیکن انکی داستان جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایک شخص ساری دُنیا چُھوڑ کے 50 سالوں سے ایک جگہ کیسے رہ رہا ہے۔ خیر دُوسرے دن انکے پاس پہنچا تو بُخار سے انکا جسم تپ رہا تھاطبیعت بُوجھل تھی۔ انکو کہا کہ میں نانا ابو کو بلالاتا ہوں وہ ڈاکٹرہیں لیکن انہوں نے سختی سے منع کردیا ۔ میں نے ان سے استدعا کی کے مجھے آپکے بارے میں جاننا ہےیہ تو جانتا ہوں بابا کہ آپ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہاں پہ ہیں لیکن آپ یہاں اکیلے کیوں ہیں؟
وہ خاموش رہے میرے بہت اسرار کے بعد انہوں نے ایک پُرانے سے تھیلے سے ایک پُرانی لیکن بھاری بھرکم ڈائری نکالی اور میرے حوالے کرتے ہوئےبُولے یہ شام تک مجھے واپس کردینا میری کُل کائنات ہے یہ۔ میں وہ ڈائری والی تھیلی لے کر گھر پہنچاجب وہ تھیلا جس کے اندرمختلف عمرکے لُوگوں کے کچھ کپڑے بھی تھے جب انکو باہر نکال تو میراکلیجہ منہ کو آگیا وہ کپڑے لہولہان تھے لیکن ان پہ لگا لہو خشک ہوچکا تھا ۔ وُہ کپڑے میں نے دُوبارہ تھیلی میں ڈالے اور ڈائری نکال لی۔ ڈائری کے پہلے صفحات پر چند تصاویر تھیں جن میں صرف بابا جی کوہی پہچان سکا۔ بابا جی کی تصاویر اس بات کو ظاہر کررہی تھیں کہ بابا جی کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انکی فیملی کافی بڑی تھی، آپ خود اندازہ لگا سکتےہیں کہ جس وقت لوگ کیمروں کا نام تک نہیں جانتے تھے اس وقت کوئی کھاتا پیتا شخص ہی تصویریں لینا افورڈ کرسکتا ہوگا۔خیر ان تصویروں کو دیکھنےکے بعدڈائری کی طرف آتا ہوں اور آگے جوکچھ لکھوں گا وہ الفاظ بابا جی کے ہوں گے جیسے انہوں نے اپنی ڈائرمیں درج کیے تھے۔ڈائری کے پہلے ورق پہ جو تاریخ درج تھی وہ تاریخ تھی۔22 اکتوبر 1957 یعنی پاکستان بننے کے 10 سال بعد۔ ڈائری طویل ہےمختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔
"میرا نام محمد بشیر ہے میں 1925 میں ہندوستان میں پنجاب کے ایک گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا۔ ایک نہایت خوشحال گھرانا جس میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خاندان بھی کافی بڑا تھا دادا جی کے 8 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھی سب ہی شادی شدہ تھے اور قریبی علاقوں میں ہی آباد تھے۔ ابا کا منڈی میں غلہ کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی ، چونکہ میں اپنے گھر میں بڑا بیٹا تھا تو کافی توجہ دی گئی ، اچھے سکول میں ڈالا گیا۔ اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابا نے 15 سال کی عمر جبکہ اس وقت میرے دُو اور بھائی اور دُو بہنیں ہوچکی تھیں اور مجھے بھی ذمہ داری کا احسا س ہوا تو میں ابا کا ہاتھ بٹانے کے لیے انکے ساتھ کاروبار سنبھالنے لگا۔ اس وقت ابا سےملنے آنے والے ابا کے دوست احباب سے سُنا کرتا تھا کہ کوئی محمدعلی جناح ہیں جو مسلمانوں کے اپنا گھر چاہتےہیں۔ یہ باتیں میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر اپنے اردگرد رہنے والے ہندوؤں کا برتاؤ مجھے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضروردکھائی دیتا۔ خیر وقت گزرتا گیا کاروبار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی اباجی نے میری شادی میری چچازاد سے کرادی۔ شادی کے ایک سال بعد مجھے اللہ نے ایک بیٹے سے نواز-
زندگی گزرتی رہی اور 1947ء میں جب میں 22 سال کی عمر میں قدم رکھ رہا تھا اس وقت میرے دُو بیٹے اور ایک بیٹی میرا کل سرمایہ تھے۔جوں جوں 1947 کا سال آگے بڑھتا گیا ہولناکیاں اور اردگرد کا ماحول ہم پہ تنگ ہوتا گیا۔روز ہی کسی نہ کسی مسلمان کے شہید ہونے کی خبریں ہمیں کرب میں مبتلاء کررہی تھیں۔اگست 1947 کے شروع میں ابا کی طبیعت ناساز ہونے کے سبب ابا نے وصولی کے لیے مجھےممبئی بھیجا ۔ مجھے ممبئی میں کچھ دن لگ گئےآخر 13 اگست کی رات آئی جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا اور ہر طرف ایک ادھم مچ گیا۔ دوسرا حصہ ان شاءاللہ
عشاء کے بعد جب سارا گاؤں خاموشیوں اور گھپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ، ویرانیوں اور تنہائیوں کے سائے سارے گاؤں کواپنی آغوش میں لے لیتیں تو دور ٹھہرے ایک گھنے درخت کے پاس سے ایک درد بھری سی آواز سی سُنائی دیتی جو سارے ماحول کو مزید افسردہ کردیتی ۔ یہ آواز کسی کی یاد کو الفاظ میں ڈھال کر تب تک سُنائی دیتی جب تک یہ رندھ سی جاتی اور آہستہ آہستہ خاموش ہوجاتی ۔ صبح جب وہاں جا کہ دیکھتا تو کوئی موجود نہ ہوتا صرف ایک چٹائی، چند برتن اور چند بوسیدہ سے کپڑے۔ شاید وہ چٹایوں کا کام کرتے تھے تب ہی تپے وغیرہ بھی پاس پڑے ملے۔اپنے نانا جی سے انکے بارے میں پُوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ قیامِ پاکستان کے وقت انکے والد صاحب یعنی ہمارے پرنانا جی کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تب سے یہیں پہ ہیں اور اس وقت سے یہی رات کو دکھ بھری آواز ہی سُنتے آئے ہیں اس کے علاوہ یہ کسی سے کوئی واسطہ کوئی غرض نہیں رکھتے۔
صبح سویرے نکل جاتے ہیں اور خدامعلوم کس وقت لوٹ کے آتے ہیں۔پچھلے 50 ،55 سے ایسے ہی ہیں انکی عمر بھی لگ بھگ 80 کے قریب ہوگی لیکن ان میں مشقت کی جان ابھی بھی باقی تھی۔ نانا ابوکے تعارف کرانے کے بعد میرے دل میں ان سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا اور میں ان سے ملنے پہنچ جاتا لیکن انتظار کرتے کرتے واپس آجاتا معلوم نہیں وہ کس وقت آتےتھے۔رات کو انکی آواز سُن کے پھر بےچین سا ہوجاتا لیکن اسوقت ان کو تکلیف دینا مناسب بھی نہیں تھا لگتا۔ ایک دن باہر نکلا تو دیکھا وہ آج اپنی جھونپڑی کے پاس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے مجھے موقع مناسب لگا اور انکے سر جا پہنچا۔ وہاں جاکہ سلام کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے پھرذرا اونچی آواز میں سلام کیا توانہوں نے مڑکے دیکھا اور کہا آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے چٹائیاں نہیں بنائیں۔
میں نے کہا میں چٹائیاں لینے نہیں آپ سے ملنے آیا ہوںوہ حیران ساہوئے اور پُوچھا کون ہو بیٹا اور مجھ سے ملنے ایک فقیر سے بھلا کوئی ملنے کیوں آئے گا۔ میں نے جواب دیا بابا جی رات کو آپ کی آواز کا درد مجھے سکون نہیں لینے دے رہا۔ آپ کون ہیں آپکا گھر بار کہاں ہے؟ آپکے بیوی بچے کہاں ہیں؟ اس پہ تھوڑا سا غصہ ہوےکہا جا بیٹا تنگ نہ کرو۔ میں اُس دن چُپ چاپ واپس لُوٹ آیا لیکن انکی داستان جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایک شخص ساری دُنیا چُھوڑ کے 50 سالوں سے ایک جگہ کیسے رہ رہا ہے۔ خیر دُوسرے دن انکے پاس پہنچا تو بُخار سے انکا جسم تپ رہا تھاطبیعت بُوجھل تھی۔ انکو کہا کہ میں نانا ابو کو بلالاتا ہوں وہ ڈاکٹرہیں لیکن انہوں نے سختی سے منع کردیا ۔ میں نے ان سے استدعا کی کے مجھے آپکے بارے میں جاننا ہےیہ تو جانتا ہوں بابا کہ آپ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہاں پہ ہیں لیکن آپ یہاں اکیلے کیوں ہیں؟
وہ خاموش رہے میرے بہت اسرار کے بعد انہوں نے ایک پُرانے سے تھیلے سے ایک پُرانی لیکن بھاری بھرکم ڈائری نکالی اور میرے حوالے کرتے ہوئےبُولے یہ شام تک مجھے واپس کردینا میری کُل کائنات ہے یہ۔ میں وہ ڈائری والی تھیلی لے کر گھر پہنچاجب وہ تھیلا جس کے اندرمختلف عمرکے لُوگوں کے کچھ کپڑے بھی تھے جب انکو باہر نکال تو میراکلیجہ منہ کو آگیا وہ کپڑے لہولہان تھے لیکن ان پہ لگا لہو خشک ہوچکا تھا ۔ وُہ کپڑے میں نے دُوبارہ تھیلی میں ڈالے اور ڈائری نکال لی۔ ڈائری کے پہلے صفحات پر چند تصاویر تھیں جن میں صرف بابا جی کوہی پہچان سکا۔ بابا جی کی تصاویر اس بات کو ظاہر کررہی تھیں کہ بابا جی کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انکی فیملی کافی بڑی تھی، آپ خود اندازہ لگا سکتےہیں کہ جس وقت لوگ کیمروں کا نام تک نہیں جانتے تھے اس وقت کوئی کھاتا پیتا شخص ہی تصویریں لینا افورڈ کرسکتا ہوگا۔خیر ان تصویروں کو دیکھنےکے بعدڈائری کی طرف آتا ہوں اور آگے جوکچھ لکھوں گا وہ الفاظ بابا جی کے ہوں گے جیسے انہوں نے اپنی ڈائرمیں درج کیے تھے۔ڈائری کے پہلے ورق پہ جو تاریخ درج تھی وہ تاریخ تھی۔22 اکتوبر 1957 یعنی پاکستان بننے کے 10 سال بعد۔ ڈائری طویل ہےمختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔
"میرا نام محمد بشیر ہے میں 1925 میں ہندوستان میں پنجاب کے ایک گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا۔ ایک نہایت خوشحال گھرانا جس میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خاندان بھی کافی بڑا تھا دادا جی کے 8 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھی سب ہی شادی شدہ تھے اور قریبی علاقوں میں ہی آباد تھے۔ ابا کا منڈی میں غلہ کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی ، چونکہ میں اپنے گھر میں بڑا بیٹا تھا تو کافی توجہ دی گئی ، اچھے سکول میں ڈالا گیا۔ اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابا نے 15 سال کی عمر جبکہ اس وقت میرے دُو اور بھائی اور دُو بہنیں ہوچکی تھیں اور مجھے بھی ذمہ داری کا احسا س ہوا تو میں ابا کا ہاتھ بٹانے کے لیے انکے ساتھ کاروبار سنبھالنے لگا۔ اس وقت ابا سےملنے آنے والے ابا کے دوست احباب سے سُنا کرتا تھا کہ کوئی محمدعلی جناح ہیں جو مسلمانوں کے اپنا گھر چاہتےہیں۔ یہ باتیں میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر اپنے اردگرد رہنے والے ہندوؤں کا برتاؤ مجھے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضروردکھائی دیتا۔ خیر وقت گزرتا گیا کاروبار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی اباجی نے میری شادی میری چچازاد سے کرادی۔ شادی کے ایک سال بعد مجھے اللہ نے ایک بیٹے سے نواز-
زندگی گزرتی رہی اور 1947ء میں جب میں 22 سال کی عمر میں قدم رکھ رہا تھا اس وقت میرے دُو بیٹے اور ایک بیٹی میرا کل سرمایہ تھے۔جوں جوں 1947 کا سال آگے بڑھتا گیا ہولناکیاں اور اردگرد کا ماحول ہم پہ تنگ ہوتا گیا۔روز ہی کسی نہ کسی مسلمان کے شہید ہونے کی خبریں ہمیں کرب میں مبتلاء کررہی تھیں۔اگست 1947 کے شروع میں ابا کی طبیعت ناساز ہونے کے سبب ابا نے وصولی کے لیے مجھےممبئی بھیجا ۔ مجھے ممبئی میں کچھ دن لگ گئےآخر 13 اگست کی رات آئی جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا اور ہر طرف ایک ادھم مچ گیا۔ دوسرا حصہ ان شاءاللہ
