Tuesday, August 14, 2018

baba PAKISTAN sad story part one

پہلے شئیر کرچکا ہوں لیکن آج کے دن کی اہمیت کے حوالے سے ان لوگوں تک پہچانا بھی ضروری ہے جنہوں نے نہیں پڑھا.برائے مہربانی ضرور پڑھیں اور شئیر کریں. تاکہ احساس پیدا ہو کہ یہ ملک کیسے حاصل کیا گیا.
عشاء کے بعد جب سارا گاؤں خاموشیوں اور گھپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ، ویرانیوں اور تنہائیوں کے سائے سارے گاؤں کواپنی آغوش میں لے لیتیں تو دور ٹھہرے ایک گھنے درخت کے پاس سے ایک درد بھری سی آواز سی سُنائی دیتی جو سارے ماحول کو مزید افسردہ کردیتی ۔ یہ آواز کسی کی یاد کو الفاظ میں ڈھال کر تب تک سُنائی دیتی جب تک یہ رندھ سی جاتی اور آہستہ آہستہ خاموش ہوجاتی ۔ صبح جب وہاں جا کہ دیکھتا تو کوئی موجود نہ ہوتا صرف ایک چٹائی، چند برتن اور چند بوسیدہ سے کپڑے۔ شاید وہ چٹایوں کا کام کرتے تھے تب ہی تپے وغیرہ بھی پاس پڑے ملے۔اپنے نانا جی سے انکے بارے میں پُوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ قیامِ پاکستان کے وقت انکے والد صاحب یعنی ہمارے پرنانا جی کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تب سے یہیں پہ ہیں اور اس وقت سے یہی رات کو دکھ بھری آواز ہی سُنتے آئے ہیں اس کے علاوہ یہ کسی سے کوئی واسطہ کوئی غرض نہیں رکھتے۔

صبح سویرے نکل جاتے ہیں اور خدامعلوم کس وقت لوٹ کے آتے ہیں۔پچھلے 50 ،55 سے ایسے ہی ہیں  انکی عمر بھی لگ بھگ 80 کے قریب ہوگی لیکن ان میں مشقت کی جان ابھی بھی باقی تھی۔ نانا ابوکے تعارف کرانے کے بعد میرے دل میں ان سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا اور میں ان سے ملنے پہنچ جاتا لیکن انتظار کرتے کرتے واپس آجاتا معلوم نہیں وہ کس وقت آتےتھے۔رات کو انکی آواز سُن کے پھر بےچین سا ہوجاتا لیکن اسوقت ان کو تکلیف دینا مناسب بھی نہیں تھا لگتا۔ ایک دن باہر نکلا تو دیکھا وہ آج اپنی جھونپڑی کے پاس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے مجھے موقع مناسب لگا اور انکے سر جا پہنچا۔ وہاں جاکہ سلام کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے پھرذرا اونچی آواز میں سلام کیا توانہوں نے مڑکے دیکھا اور کہا آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے چٹائیاں نہیں بنائیں۔

میں نے کہا میں چٹائیاں لینے نہیں آپ سے ملنے آیا ہوںوہ حیران ساہوئے اور پُوچھا کون ہو بیٹا اور مجھ سے ملنے ایک فقیر سے بھلا کوئی ملنے کیوں آئے گا۔ میں نے جواب دیا بابا جی رات کو آپ کی آواز کا درد مجھے سکون نہیں لینے دے رہا۔ آپ کون ہیں آپکا گھر بار کہاں ہے؟ آپکے بیوی بچے کہاں ہیں؟ اس پہ تھوڑا سا غصہ ہوےکہا جا بیٹا تنگ نہ کرو۔ میں اُس دن چُپ چاپ واپس لُوٹ آیا لیکن انکی داستان جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایک شخص ساری دُنیا چُھوڑ کے 50 سالوں سے ایک جگہ کیسے رہ رہا ہے۔ خیر دُوسرے دن انکے پاس پہنچا تو بُخار سے انکا جسم تپ رہا تھاطبیعت بُوجھل تھی۔ انکو کہا کہ میں نانا ابو کو بلالاتا ہوں وہ ڈاکٹرہیں لیکن انہوں نے سختی سے منع کردیا ۔ میں نے ان سے استدعا کی  کے مجھے آپکے بارے میں جاننا ہےیہ تو جانتا ہوں بابا  کہ آپ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہاں پہ ہیں لیکن آپ یہاں اکیلے کیوں ہیں؟

 وہ خاموش رہے میرے بہت اسرار کے بعد انہوں نے ایک پُرانے سے تھیلے سے ایک پُرانی لیکن بھاری بھرکم ڈائری نکالی اور میرے حوالے کرتے ہوئےبُولے یہ شام تک مجھے واپس کردینا میری کُل کائنات ہے یہ۔ میں وہ ڈائری والی تھیلی لے کر گھر پہنچاجب وہ تھیلا جس کے اندرمختلف عمرکے لُوگوں کے  کچھ کپڑے بھی تھے جب انکو باہر نکال تو میراکلیجہ منہ کو آگیا وہ کپڑے لہولہان تھے لیکن ان پہ لگا لہو خشک ہوچکا تھا ۔ وُہ کپڑے میں نے دُوبارہ تھیلی میں ڈالے اور ڈائری نکال لی۔ ڈائری کے پہلے صفحات پر چند تصاویر تھیں جن میں صرف بابا جی کوہی پہچان سکا۔ بابا جی کی تصاویر اس بات کو ظاہر کررہی تھیں کہ بابا جی کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انکی فیملی کافی بڑی تھی، آپ خود اندازہ لگا سکتےہیں کہ جس وقت لوگ کیمروں کا نام تک نہیں جانتے تھے اس وقت کوئی کھاتا پیتا شخص ہی تصویریں لینا افورڈ کرسکتا ہوگا۔خیر ان تصویروں کو دیکھنےکے بعدڈائری کی طرف آتا ہوں اور آگے جوکچھ لکھوں گا وہ الفاظ بابا جی کے ہوں گے جیسے انہوں نے اپنی ڈائرمیں درج کیے تھے۔ڈائری کے پہلے ورق پہ جو تاریخ درج تھی وہ تاریخ تھی۔22 اکتوبر 1957 یعنی پاکستان بننے کے 10 سال بعد۔ ڈائری طویل ہےمختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

"میرا نام محمد بشیر ہے میں 1925 میں ہندوستان میں پنجاب کے ایک گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا۔ ایک نہایت خوشحال گھرانا جس میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خاندان بھی کافی بڑا تھا دادا جی کے 8 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھی  سب ہی شادی شدہ تھے اور قریبی  علاقوں میں ہی آباد تھے۔ ابا کا منڈی میں غلہ کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی ، چونکہ میں اپنے گھر میں بڑا بیٹا تھا تو کافی توجہ دی گئی ، اچھے سکول میں ڈالا گیا۔ اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابا نے 15 سال کی عمر جبکہ اس وقت میرے دُو اور بھائی اور دُو بہنیں ہوچکی تھیں اور مجھے بھی ذمہ داری کا احسا س  ہوا تو میں ابا کا ہاتھ بٹانے کے لیے انکے ساتھ کاروبار سنبھالنے لگا۔ اس وقت ابا سےملنے آنے والے ابا کے دوست احباب سے سُنا کرتا تھا کہ کوئی محمدعلی جناح ہیں جو مسلمانوں کے اپنا گھر چاہتےہیں۔ یہ باتیں میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر اپنے اردگرد رہنے والے ہندوؤں کا برتاؤ مجھے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضروردکھائی دیتا۔ خیر وقت گزرتا گیا کاروبار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی اباجی نے میری شادی میری چچازاد سے کرادی۔ شادی کے ایک سال بعد مجھے اللہ نے ایک بیٹے سے نواز-

 زندگی گزرتی رہی اور 1947ء میں جب میں 22 سال کی عمر میں قدم رکھ رہا تھا اس وقت میرے دُو بیٹے اور ایک بیٹی میرا کل سرمایہ تھے۔جوں جوں 1947 کا سال آگے بڑھتا گیا ہولناکیاں اور اردگرد کا ماحول ہم پہ تنگ ہوتا گیا۔روز ہی کسی نہ کسی مسلمان کے شہید ہونے کی خبریں ہمیں کرب میں مبتلاء کررہی تھیں۔اگست 1947 کے شروع میں ابا کی طبیعت ناساز ہونے کے سبب ابا نے وصولی کے لیے مجھےممبئی بھیجا ۔  مجھے ممبئی میں کچھ دن لگ گئےآخر 13 اگست کی رات آئی جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا اور ہر طرف ایک ادھم مچ گیا۔ دوسرا حصہ ان شاءاللہ 

Sunday, August 12, 2018

خاندان اور خون کی پہچان

*خاندان اور خون کی پہچان*

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار  میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا .
سلطان نے شرط منظور کر لی  اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید  لگیں گے.
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں  حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے  بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا کہ اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا  نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز  سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے...
 بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا........

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو  ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان  کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز  کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سانحہ بابڑہ: ولی خان کی زبان

سانحہ : ولی خان کی زبان
۔
’’ باچاخان اور میں جیل میں تھے۔ جولائی 1948 کو سرحد(پختونخوا) حکومت نے خدائی خدمتگار تنظیم پر پابندی لگادی، پختون رسالہ بند کر دیا اور جو گرفتاریاں ہورہی تھیں اُن میں شدت آئی۔ ہمیں جیل میں علم ہوا کہ سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاریوں کے خلاف خدائی خدمتگاروں نے 12 اگست کو بابڑہ چارسدہ میں احتجاج کا پروگرام بنایا ہے ۔13اگست کو معلوم ہوا کہ اس اجتماع پر گولیاں چلی ہیں اور سیکڑوں مرد اور خواتین شہید ہوئے ہیں ۔حکومت نے اسپتال انتظامیہ کو پابند کیا تھا کہ زخمیوں کا علاج نہیں کیا جائیگا اور انہیں پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔ اس طرح زخمی ، علاج کی بجائے پولیس سے چھپتے پر رہے تھے۔ جو رضاکار گرفتار ہوتے وہ ہمارے پاس جیل آرہے تھے، جس سے واقعات سے آگاہی ہورہی تھی۔جب اس احتجاج کےمنتظم اور خدائی خدمتگار تنظیم کے سالار اعظم امین جان خان جیل لائے گئے تو ہمیں تمام تفصیلات کا علم ہوا‘‘ ……
یہ اقتباس مرحوم و مغفور خان عبدالولی خان کی کتاب’’ باچا خان اور خدائی خدمتگاری‘‘سے لیا گیا ہے۔جلد دوم کے متعدد صفحات پر 12اگست 1948 کو رونما ہونے والے اس خون ریز داستان کی تفصیلات ملتی ہیں ۔ جو صفحہ 125سے شروع ہوتی ہیں۔یہ کتاب مجھ ناچیز کو محترم خان عبدالولی خان نے اپنائیت سے مزین اپنے آٹوگراف کے ساتھ ولی باغ سے کراچی بھیجی تھی۔میں نے اس واقعہ سے متعلق معلومات کیلئے اس کتاب کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ بابڑہ سے متعلق اکثر لوگ غلط بیانیاں کرجاتے ہیں ، یہاں تک کہ اے این پی کے بعض اصحاب بھی فاش غلطیوں پر مشتمل معلومات عام کردیتے ہیں ،جس سے تاریخ کا قرض ادا نہیں ہو پاتا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مظاہرین دفعہ 144 کی خلاف ورزی کررہے تھے، اس لئے گولیاں چلیں۔ولی خان بابا کا کہنا ہے کہ مجھے ہمارے ضلع کے ڈپٹی کمیشنر طورو کے ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ نہ تو میں نے دفعہ 144لگائی تھی اور نہ ہی کسی نے مجھ سے پوچھا تھا۔باچاخان بابا قانون کا احترام کرتے تھے، وہ کھبی دفعہ144کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے، پھر ان کے پیروکار ایسا کیونکر کرسکتے تھے۔ولی خان رقم طراز ہیں’’سرکار نے احتجاج کا سنتے ہیں بغیر کسی انتباہ کے سب سے پہلے احتجاج کے منتظم رضاروں کوپکڑ کر دریا میں پھینک دیا، اور کہا کہ جو احتجاج میں شرکت کریگا ، انجام ایسا ہی ہوگا کہ لاش بھی نہیں ملے گی۔اس کے باوجود ہزاروں مظاہرین چارسدہ، پڑانگ اور بابڑہ تک پہنچ گئے۔جلوس غازی گل بابا مسجد کے راستے روانہ تھا کہ مقبرے کے قریب جلسہ کرینگے۔مقبرے کے درمیان مسجد پر ملیشا نے قبضہ کرلیا تھا، جیسے ہی یہ جلوس مسجد کے قریب پہنچا،کسی انتباہ کے بغیر ان پر گولیوں کی بارش کردی گئی۔جلو س کی پہلی صف میں ایک نوجوان سرخ قومی پرچم تھامے رواں تھا ،اُسے گولی لگی،دم توڑتے ہوئے اُس نے یہ پرچم دوسرے نوجوان کو دیدیا، اُسے گولی لگی تو ایک دوسرے نوجوان نے لپک کر اُس سے پرچم لے لیا اور آگے بڑھا۔جلوس میں شریک بزرگوں نےجب صورت حال کا اندازہ لگایا تو فوری ہدایتے کی کہ ، سب لیٹ جائیں ۔ مارٹر گولے تک مسجد کی چھت سے ان نہتے مظاہرین پر پھینکے جارہے تھے،جلوس میں شریک خواتین بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہونے لگیں۔ایک لرزہ خیز قیامت بپا تھی، گھروں میں موجود خواتین قرآن مجید سروں پر رکھ کر باہر آئیں، آہ وزاریاں کرنے لگیں۔مسلمان کہلانے والے شقی القلب پولیس افسروں نے کہا ہمیں حکم ہے کہ ان کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے۔اُن خواتین پر بھی گولیاں چلائی گئیں، جس سے قرآن مجید بھی شہید ہوگئے۔جیل سے رہائی پر میں (ولی خان )نے خود گولیوں سے چھلنی وہ قرآن مجید دیکھے ہیں۔اکثر گھروں میں اب بھی وہ شہید قرآن مجید موجود ہیں۔اس قتل عام کے بعد خدائی خدمتگاروں کے گھروں کو لوٹا گیا۔ایک نو بیہاتا دلہن جس کا خاوند جلوس میں شامل تھا۔پولیس والے اُس کے گھر پر پہنچے،اور سب کچھ لوٹنے کے بعد دلہن سے شادی کا جوڑا بھی لینے لگے ،اُس نے کہا کپڑے تو تم نے لے لئے ہیں اب تو صر ف یہی ایک جوڑا میرے تن پر بچا ہے۔اسلامی مملکت کے محافظوں نےکہا یہ بھی ہمارے سامنے اُتاردو…. پڑوسیوں نے اپنے کپڑے دئے اور یہ بے شرم قیوم خانی نمک خور وہ جوڑا بھی ساتھ لے گئے‘‘
۔انسا نیت سوز، لرزہ خیز ، بربریت پر مشتمل آگے کے واقعات بیان کرنے کی میں( اجمل کشر) خود میں ہمت نہیں پاتا۔ولی خان صاحب کا کہنا ہے کہ اس خونی واقعہ میںتقریبا 600مرد ، خواتین، بزرگ اور بچے شہید ہوئے،چونکہ ساتھی مختلف علاقوں اور دوردراز سے آئے تھے اس لئے شہدا کی تعداد کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ، چہ جائیکہ زخمیوں کا معلوم ہوسکے‘‘…..ولی خان کی کتاب سے آپ نے اقتباس ملاخط فرمایا۔یہ واضع رہے کہ جلوس کو پُرامن بنانے کے لئے لوگوں کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ خالی ہاتھ آئیں۔ یہاں تک کہ ہاتھوں میں ڈنڈے بھی ساتھ نہ لائیں۔ اس جلوس میں بوڑھے، بچے اور جوان شامل تھے،اس کے بائوجود عینی شاہدین کے مطابق پولیس 45منٹ تک نہتے لوگوں پر گولیاں برساتی رہیں۔ان اہلکاروں کا اسلام تو کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کا واسطہ نہ تھا۔حالانکہ انگریز کے دور میں جب فائر کا حکم دیا گیا تو گڑھوال رائفل کے سپاہیوں نے نہتے سرخ پوشوں پر گولی چلانے سےانکار کردیا تھا ۔یہاں سفاکی کاعالم یہ تھا کہ ستمبر 1948ء کو عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں بیان دیا ’’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کیا تھا، جب لوگ منتشر نہ ہوئے، تو ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے، کیوں کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا، ورنہ ایک بندہ بھی زندہ نہ بچتا۔‘….
اس کشمیری عبدالقیوم خان کی پست ذہینت ،اخلاق سوز کردار اور موقع پرستی کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے لگالیجئے۔قیوم خان کانگریس میں شامل تھے،اور باچاخان کے معتقد تھے۔اُنہوں نےایک کتاب ’’گولڈ اینڈ گنز ان دی فرنٹیئر ریجن‘‘ لکھی، جس میں باچا خان کی تعریف کے پُل باندھ دئیے۔لیکن جیسے ہی ہندوستان کے دو مملکتوں میں تقسیم کا اندازہ ہوا، تو 1940میں مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔حیا باختہ یہ شخص قیام پاکستان کے بعد جیسے ہی صوبہ سرحد ( پختونخوا) کا وزیر اعلیٰ بنا تو عہدہ سنبھالتے ہی خود اپنی ہی محولہ کتاب پر پابندی لگا دی ۔ غالباً یہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جس پر خود اس کے اپنے ہی مصنف نے پابندی لگا ئی ۔ اب پختون ایسے کمزور نہ تھے کہ ایسے بزدل شخص کی گولی کا جواب گولی سے دینا نہیں جانتے تھے۔مگر وہ باچاخان کے پیروکار تھے۔سیکڑوں میں سے یہاں صرف ایک حوالہ دینا چاہتے ہیں۔ 1921میں باچا خان اتمان زئی اسکول میں فٹ بال گرائونڈ بنارہے تھے کہ فرنگی حکومت نے تعلیم عام کرنے کر ’’ جرم‘‘ میں گرفتار کرلیا ۔ گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے۔ خدائی خدمت گاروں نے جیل کا محاصرہ کرلیا۔ نعرۃ تکبیر نے باچاخان کی سماعت کا بوسہ لیا،تو بابا سمجھ گئے، حواس باختہ گورے افسر سے کہا، دومنٹ کے لیے خدائی خدمتگاروں سے مخاطب ہونے دیجیے،یہ گھر چلے جائیں گے۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے پکارا! میرے پختونو! تمہارے پاس اس جنگ میں ناقابل شکست ہتھیار دو ہی ہیں۔ صبر و استقامت ! عدم تشد د کے نظرئے کو ہتھیار بنالو،اور میری عرض ہے کہ گھروں کو لوٹ جاؤ۔ خدمت کرو، تعلیم جاری رکھو، جرگے لے کر جاؤ اور پختونوں کی سماجت کرو کہ اپنی دشمنیاں ختم کردیں……. پختون لوٹ گئے۔ اب ایسے صلح جو کے پیروکاروں کے ساتھ اپنے ملک میں کیا ہوا۔ مویشی ضبط ، گھر نیلام ہوئے، بھوک و افلاس مسلط ہوا، دوسرے گاؤں سے آنے والی اشیائے خورد و نوش ضبط ہوئیں، امداد پہنچانے والوں کو پھانسیاں دی گئیں، روپوشی کی زندگی نصیب بنی، فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی پیاسے مرے، ایک ایک اجتماع میں چالیس چالیس رضاکار مارے گئے، بمباریاں ہوتی رہیں، اسکول اور دفاتر خاکستر ہوئے، زخمی نوجوانوں گندے پانی کے ٹھنڈے تالابوں میں پھینکے گئے، ایک گاؤں مکمل اور ایک آدھا نذر آتش ہوا۔اب ایسی شخصیت جس نے مصائب و آلم کے پہاڑ عبور کئے ہوں،رہائی کے بعد 20مارچ 1954کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’6 سال پہلے میں نے اسی جگہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ اس کی یکجہتی اور تحفظ ہمارا فرض ہے۔ میں آج پھر وہی الفاظ دہراتا ہوں‘‘…..لیکن ایسے لوگوں تک کو معاف کیا گیا جنہوں نے قائد اعظم پرکفر کے فتوے صادر کئے تھے،لیکن وائے افسوس،،، باچاخان زندگی کی آخری سانسوں تک زیر عتاب رہے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جب بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے سانحہ جلیانوالہ باغ کو برطانوی تاریخ تاریخ کا شرمنا ک واقعہ قرار دیا تھا۔
جلیانوالہ باغ کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 379 بتائی جاتی ہے جبکہ بابڑہ کے میں 600 سے زیادہ نہتے پختونوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔اگر کوئی اپنے جرم کا اعتراف نہ کرے تو اس سےایسے ظالموں کی بے حسی تو سامنے آجاتی ہے، لیکن اُس کا مکروہ چہرہ تاریخ عالم کے اوراق سے بطور انسان غائب ہوجاتا ہے۔ تاریخ ایسے فرعونوں پر ہر ساعت لعنت بھیجتی ہے۔آج ملعون قیوم خان کا نام و نشان بھی نہیں ہےاور باچاخان کا کاررواں یوں ہی رواں دواں ہے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے،   ہوا چل رہی ھے۔